Saturday, December 17, 2016

تعلیم یافتہ مسلمان نوجوان متوجہ ہوں:


تعلیم یافتہ مسلمان نوجوان متوجہ ہوں:
لبرل ازم، سیکولرازم اور الحاد سمیت بہت سارے شگوفے محض الفاظ نہیں بلکہ پورا نظام ہیں۔
جس طرح عیسائیت، یہودیت، ہندومت، وغیرہ مختلف مذاہب ہیں۔ جس طرح اسلام ایک پورا نظام حیات ہے بالکل اسی طرح لبرل ازم، سیکولرازم وغیرہ بھی نظام ہیں جو اس وقت دنیا کے اکثر ممالک میں نافذ العمل ہیں۔
اسلام کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی نظام ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے ہم لبرل ازم لفظ پڑھتے اور سنتے ہیں اور بغیر سوچے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
میں تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں سے گذارش کروں گا کہ وہ ضرور لبرل ازم، سیکولرازم اور الحاد کے بارے اسلام اور مسلمانوں کا موقف معلوم کریں۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ آپ کے چند گھنٹے جو ان نظاموں کو پڑھنے اور سمجھنے میں لگیں گے امت مسلمہ اور اسلام کی ترقی اور نشاۃ ثانیہ کا باعث بن سکتے ہیں۔
برائے مہربانی کچھ وقت نکال کر ان نظاموں کا مطالعہ ضرور کریں۔
اس حوالے سے فی الوقت چند لنک آپ کو بتا رہا ہوں ان کا مطالعہ کریں۔
اسی طرح چند شخصیات کے لیکچر اور تحریریں پڑھنے اورسننے کا اہتمام بھی کریں مثلا
استاد احمد جاوید، حامد کمال الدین، خالد محمود عباسی، ان کو یوٹیوب پر سنیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل ویب سائٹس کا مطالعہ اور فیس بک پیجز کو لائیک کرکے سی فرسٹ کریں۔
ویب سائٹس
http://ilhaad.com/
http://www.eeqaz.org/
فیس بک پیجز
https://www.facebook.com/Liberal2016
https://www.facebook.com/WarALofficial/?fref=ts
https://www.facebook.com/RoshniPakistan1/
https://www.facebook.com/Anti.Atheism1/
https://www.facebook.com/DesiLiberals/
https://www.facebook.com/RantsDL/
https://www.facebook.com/Nukta313/?fref=ts
https://www.facebook.com/zarparast/?fref=ts
https://www.facebook.com/MashalThree/?fref=ts
https://www.facebook.com/Religion.philosphy/
https://www.facebook.com/ujalamag
https://www.facebook.com/ReasonandAtheism
 hate Pakistani Liberals
https://www.facebook.com/Ay.Muslim.e.Khabeeda
https://www.facebook.com/pageonhaq
https://www.facebook.com/IslamicHistory2
https://www.facebook.com/RehmanWalay
https://www.facebook.com/EncyclopediaOfLifePage
https://www.facebook.com/Molvi101
https://www.facebook.com/FitnasOfEra
https://www.facebook.com/MolviRokra2
https://www.facebook.com/difaeislam
https://www.facebook.com/save.islam.forever
https://www.facebook.com/mm.mukalma
https://www.facebook.com/Wrong.Nmber
https://www.facebook.com/JadeedJahliat
https://www.facebook.com/HidayatKiRoshni


<انگلش پیجز>>>
https://www.facebook.com/icraa.org
https://www.facebook.com/DesiLiberals
http://www.facebook.com/fatbrainanatomy
https://www.facebook.com/talkislam/
https://www.facebook.com/HamzaAndreasTzortzis
https://www.facebook.com/MissionDawah
https://www.facebook.com/TheDeenShowTV
https://www.facebook.com/iERA.org
https://www.facebook.com/TheMuslimHeroes


<ایٹی الحاد ڈسکشن گروپس>
https://www.facebook.com/groups/oifd1
https://www.facebook.com/groups/1670324953182088
https://www.facebook.com/groups/1070970632927180/
https://www.facebook.com/groups/Ujala1

Monday, December 12, 2016

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے

........................................
لب پہ نعت پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے

دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

Tuesday, November 1, 2016

Tanzeem e islami salana ijtema 2016
تنظیم اسلامی سالانہ اجتماع 2016 بہاولپور

Saturday, October 8, 2016

ٹیلی نار نے 4G ڈیوائسز متعارف کرا دیں، انتہائی کم قیمت میں اتنا ڈیٹا کہ صارفین کی خوشی کی حد نہ رہی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سیلولر کمپنی ٹیلی نار نے پاکستان بھر میں 4G ڈیوائسز ”4G ہاٹ سپاٹ ونگل“ اور ”4G ہاٹ سپاٹ موبائل وائی فائی“ متعارف کرا دی ہیں جن کی خاص بات 180 جی بی ڈیٹا لیمٹ کے پیکیجز ہیں۔ یہ دونوں ڈیوائسز ڈیٹا سم کے ساتھ صارفین کو مہیا کی جائیںگی اور صارفین ان کیلئے مخصوص پیکیجز استعمال کر سکیں گے۔ ان ڈیوائسز میں موجود فرق درج ذیل ہے۔


”4G ہاٹ سپاٹ ونگل “
صرف اس وقت کام کرے گی جب یہ لیپ ٹاپ یا کسی یو ایس بی پاور سورس میں لگائی جائے گی۔ 
یہ آن ہوتے ہی وائی فائی ہاٹ سپاٹ بنا دے گی جس سے 10 ڈیوائسز کنیکٹ کی جا سکیں گی۔ 
اس کی قیمت 2,000 روپے ہے۔

”4G ہاٹ سپاٹ موبائل وائی فائی“
یہ بیٹری پر کام کرتی ہے اس لئے اسے پاور سورس کی ضرورت نہیں البتہ اسے چارج کرنا ضروری ہے۔ 
صرف ایک بٹن دبانے سے آن ہو جائے گی۔ 
اس کے ساتھ ایک ہی وقت میں 16 ڈیوائسز کنیکٹ کی جا سکیں گی۔ 
اس کی بیٹری 1500 ایم اے ایچ کی ہے جو مسلسل 6 گھنٹے کام کر سکتی ہے جبکہ 300 گھنٹوں تک سٹینڈ بائی رہ سکتی ہے۔ 
اس کی قیمت 3000روپے ہے۔

ٹیلی نار نے ان ڈیوائسز کیلئے چند پیکیجز بھی متعارف کرائے ہیں جو سارے کے سارے ماہانہ ہیں۔ تمام پیکیجز کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

Friday, September 16, 2016

فیس بُک پر اسرائیل مخالف پوسٹیں نہیں کی جاسکیں گی


فیس بُک جلد ہی اسرائیلی حکام کے تعاون سے یہ یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی اسرائیل مخالف پوسٹ نہ لگائجاسکے۔ فوٹو؛ فائل

یروشلم: فیس بُک انتظامیہ جلد ہی اسرائیلی حکام کے تعاون سے یہ یقینی بنائے گی کہ فیس بُک پر کوئی بھی اسرائیل مخالف پوسٹ نہ لگائی جاسکے۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب کوئی بین الاقوامی نجی کمپنی کسی ملک کی ’’قانونی طور پر‘‘ تابعدار ہوجائے گی۔ فیس بُک عہدیداروں کے وفد نے اپنے حالیہ دورہ اسرائیل میں اسرائیلی وزیرِ داخلہ اور خاتون وزیرِ سے ملاقات میں اس پر اتفاق کیا کہ فیس بُک پر ایسی تمام پوسٹیں سینسر کردی جائیں گی جو اسرائیل مخالف ہوں یا جن کی وجہ سے اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہو۔

اسرائیل کی شدید خواہش ہے کہ سوشل میڈیا اس کے مفادات کا احترام کرے اور فیس بُک سمیت، سوشل میڈیا کی کسی بھی ویب سائٹ پر ایسی کوئی عبارت، تصویر یا ویڈیو شائع نہ کی جاسکے جو اسرائیل مخالف ہو یا جس کی وجہ سے اسرائیل میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہو۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا اسرائیلی مظالم پر خاموش رہے۔ فیس بُک کی حد تک اسرائیل کی یہ خواہش جلد ہی پوری ہوجائے گی۔

اسرائیلی وزیر داخلہ اور وزیر قانون دونوں ہی کا شمار شدت پسند یہودیوں میں ہوتا ہے جو خود سوشل میڈیا پر فلسطینیوں اور عربوں سے نفرت پر مبنی مواد پیش کرتے رہتے ہیں۔ پہلے ایک موقعے پر وزیر قانون نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم ہی نہیں کرتیں، اور انہوں نے ہی اسرائیلی کابینہ میں یہ تجویز دی تھی کہ سوشل نیٹ ورکس کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایسا تمام مواد ہٹادیں جسے اسرائیل تشدد پر اُکسانے والا تصور کرتا ہو۔ اسرائیلی حکومت پچھلے 4 ماہ میں ’’تشدد پر اُکسانے والے مواد کو ہٹانے‘‘ کے لیے فیس بُک کو 158 جب کہ یوٹیوب کو 15 درخواستیں دے چکی ہے جن میں سے فیس بُک نے 95 فیصد اور یوٹیوب نے 80 فیصد درخواستیں منظور کیں۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’دی انٹرسیپٹ‘‘ نامی ویب سائٹ کے کالم نگار گلین گرین والڈ نے لکھا کہ اسرائیل اور فیس بُک میں تعاون سے سوشل میڈیا سینسرشپ کی ان کوششوں کا ہدف مسلمان، عرب اور فلسطینی لوگ ہی ہوں گے۔

بھارت بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے اسی طرح کی غیراعلانیہ پالیسی پر عمل کررہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نہ صرف سیکڑوں احتجاجی فیس بُک پوسٹس ڈیلیٹ کی جاچکی ہیں بلکہ ایسی پوسٹوں پر مشتمل درجنوں فیس بُک پیجز بھی ڈیلیٹ کروائے جاچکے ہیں۔

اس کے برعکس مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے والی اور توہینِ رسالت پر مبنی لاکھوں فیس بُک پوسٹس آج تک موجود ہیں جنہیں ’’آزادئ اظہار‘‘ کے نام پر برقرار

Saturday, September 3, 2016

آپ کے ڈومین کا ذکر کس کس ویب سائیٹ میں موجود ہے؟

آپ جلدی سے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کے یا کسی اور کے ڈومین کا ذکر کس کس ویب سائیٹ میں موجود ہے، تو اس کام کے لیے گوگل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گوگل ایڈوانس سرچ کی مدد سے بہت بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً‌ میں اگر دیکھنا چاہوں کہ www.washingtonpost.com کا ذکر اور کس ویب سائیٹ میں موجود ہے تو اس کے لیے میں گوگل پر درج ذیل لائن استعمال کر سکتا ہوں:
"washingtonpost.com" -site:washingtonpost.com
  • "washingtonpost.com" کا مطلب ہے کہ مجھے نتائج میں ایسے صفحات چاہئیں جس میں یہ کی ورڈ بالکل اسی طرح سے موجود ہو۔
  • site:washingtonpost.com- کا مطلب یہ ہے کہ نتائج میں اس ویب سائیٹ سے کوئی نتیجہ شامل نہ کیا جائے۔
اگر آپ گوگل کی ایڈوانس سرچ پر مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک پر موجود سرچ آپریٹرز (Search Operators) کے استعمال کی مشق کریں:
ایڈوانس سرچ کے حوالے سے گوگل کا اپنا صفحہ بھی موجود ہے جس کا لنک یہ ہے:
Categories: 

Thursday, September 1, 2016

ویب سائیٹ کی رفتار ٹیسٹ کریں

اگر آپ ویب ڈیویلپر ہیں تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی ڈیویلپ کی ہوئی ویب سائیٹ کے ویب پیجز ڈاؤن لوڈ ہونے میں کتنا وقت لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے صارفین سست رفتار ویب سائیٹس پر ٹھہرنا پسند نہیں کرتے، اگر ویب سائیٹ کے صفحات اتنے وقت میں لوڈ نہیں ہو رہے جس کی صارف توقع کر رہا ہے تو وہ اس کے متبادل کوئی دوسری ویب سائیٹ تلاش کرے گا۔ یوں ویب سائیٹ کی یہ سست رفتاری صارفین کو مد مقابل بزنس کی ویب سائیٹ پر بھیج دے گی۔
سوال یہ ہے کہ آپ کی ویب سائیٹ دنیا کے کس علاقے میں ہوسٹ کی گئی ہے، اور یہ ویب سائیٹ دنیا کے کس حصے میں سب سے زیادہ وزٹ کی جاتی ہے۔ مثلاً‌ اگر یہ ویب سائیٹ امریکہ کی کسی ویب ہوسٹنگ کمپنی کے سرور پر موجود ہے لیکن ویب سائیٹ کے سب سے زیادہ وزیٹرز پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ویب سائیٹ کا ہر صفحہ اتنا طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے پاکستان پہنچے گا۔ اس کے برعکس اگر یہ ویب سائیٹ پاکستان یا اس کے قریب ترین کسی ملک میں ہوسٹ ہے تو ڈیٹا کی ترسیل کا یہ وقت کم ہو جائے گا۔
بڑی ہوسٹنگ کمپنیاں ایسے ہوسٹنگ پیکیجز بھی آفر کرتی ہیں جن میں CDN کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ یعنی ویب سائیٹ کے ویب پیجز اور فائلز کی نقلیںContent delivery network کے تحت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود سرورز پر محفوظ کر دی جاتی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ویب سائیٹ کے صارفین کو ان کے مطلوبہ ویب پیجز قریب ترین کسی علاقے کے سرور سے مہیا کر دیے جاتے ہیں۔
اس ٹٹوریل کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ویب سائیٹ اس وقت جہاں بھی ہوسٹ ہے، آپ اس کے ویب پیجز کے ڈاؤن لوڈ ہونے کی رفتار جان سکیں۔

1- ویب سائیٹ کی رفتار ٹیسٹ کرنے والی سروس تلاش کریں

میں نے سرچ انجن پر website speed test کے الفاظ کے ساتھ تلاش کیا ہے جس کے نتیجے میں ایسی ویب سائیٹس کے لنکس سامنے آئے ہیں جو یہ سروس فراہم کرتی ہیں۔ آپ سرچ انجن کی مدد سے جو سروس بھی منتخب کریں اس میں خاص طور پر یہ دیکھیں کہ اس کے رفتار ٹیسٹ کرنے والے کمپیوٹرز کن ممالک میں موجود ہیں۔ اس لیے کہ مختلف ممالک میں موجود کمپیوٹرز پر ٹیسٹنگ سے آپ کو بہتر طور پر اندازہ ہوجائے گا کہ ویب سائیٹ کی رفتار کن ممالک میں توقع کے مطابق ہے اور کن ممالک میں سست۔
سرچ انجن کی مدد سے ویب سائیٹ کی رفتار ٹیسٹ کرنے والی سروس تلاش کریں

2- رفتار ٹیسٹ کرنے کے لیے سیٹنگز کی ویلیوز فراہم کریں

درج ذیل اسکرین شاٹ کے مطابق رفتار ٹیسٹ کرنے والی سروس کی ویب سائیٹ پر موجود ٹیکسٹ باکس میں techurdu.com مہیا کیا گیا ہے۔ مزید سیٹنگز کے لیے Advance Settings کے لنک پر کلک کریں۔ میں نے Test Location کے ڈراپ ڈاؤن مینیو میں سے انڈیا کی ایک جگہ منتخب کی ہے جو کہ پاکستان کے قریب ترین ہے۔ براؤزر کے خانے کی ویلیو میں نے تبدیل نہیں کی، آپ اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔ Connection کے ڈراپ ڈاؤن مینیو میں مختلف رفتار والے کنکشنز کی فہرست موجود ہے، جن کی مدد سے کمپیوٹر اور موبائل ڈیوائسز پر ویب سائیٹ کی رفتار ٹیسٹ کی جا سکتی ہے۔
اس کے نیچے Repeat View آپشن بہت اہم ہے، یعنی مطلوبہ ویب پیج ایک مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جائے یا دو مرتبہ۔ اس لیے کہ جب کوئی بھی ویب پیج پہلی دفعہ صارف کے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے تو اس میں استعمال کی گئی تمام فائلز ڈاؤن لوڈ ہوتی ہیں۔ مثلاً‌ ویب پیج کی فائل، اسٹائل شیٹ فائلز، جاوا اسکرپٹ فائلز، اور تصاویر کی فائلز وغیرہ۔ براؤزر ان فائلز کو اپنی کیش میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اس کے بعد جب وہی ویب پیج یا اس ویب سائیٹ کا کوئی دوسرا ویب پیج صارف کے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ ہوتا ہے تو براؤزر پہلے سے ڈاؤن لوڈ کی گئی فائلز نئے سرے سے ڈاؤن لوڈ نہیں کرتا، بلکہ اپنی کیش سے یہ فائلز استعمال کر لیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ویب سائیٹ کا پہلا صفحہ ڈاؤن لوڈ ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے جبکہ بعد کے صفحات جلدی ڈاؤن لوڈ ہو جاتے ہیں۔ اس سے اگلا اسکرین شاٹ دیکھنے سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی۔
ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار ٹیسٹ کرنے کے لیے مطلوبہ ویب پیج کا ایڈریس مہیا کریں

3- ویب پیج کے پہلی اور دوسری مرتبہ ڈاؤن لوڈ ہونے میں وقت کا فرق

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ:
  1. پہلی دفعہ ویب پیج نے ڈاؤن لوڈ ہونے میں 6.05 سیکنڈز کا وقت لیا ہے۔ مکمل ویب پیج حاصل کرنے کے لیے براؤزر سے ویب سرور کی طرف 39 کالز بھیجی گئی ہیں۔ ان کالز میں ویب پیج کے علاوہ اسٹائل شیٹ فائلز، جاوا اسکرپٹ فائلز اور بہت سی تصاویر کی فائلز کے لیے کالز شامل ہیں۔ جبکہ ویب پیج اور اس میں استعمال کی گئی فائلز کا سائز مجموعی طور پر 521 کلو بائٹس ہے۔ Start Render کا مطلب یہ ہے کہ ویب پیج کی فائل یعنی HTML مکمل ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد براؤزر نے یہ ویب پیج کب دکھانا شروع کیا۔
  2. دوسری دفعہ ویب پیج نے ڈاؤن لوڈ ہونے میں 2.355 سیکنڈز لیے ہیں۔ مکمل ویب پیج کے حصول کے لیے ویب سرور کی طرف صرف 2 کالز بھیجی گئی ہیں۔ ایک کال ویب پیج کے لیے اور دوسری کال اس میں موجود بڑے بینر کے لیے۔ نیچے تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں اسکرین شاٹس میں بینر والی تصویر مختلف ہے، جبکہ باقی تمام پیج ایک جیسا ہے۔ اور مکمل ویب پیج کا ڈاؤن لوڈ ہونے والا ڈیٹا 48 کلو بائٹس ہے۔ چنانچہ ویب پیج کے دونوں دفعہ ڈاؤن لوڈ ہونے میں فرق یہ ہے کہ دوسری دفعہ براؤزر نے وہ فائلز اپنی کیش سے استعمال کی ہیں جو پہلی دفعہ میں ڈاؤن لوڈ ہو چکی تھیں۔ دوسری دفعہ میں چونکہ ویب پیج کا بینر مختلف تھا اس لیے ویب پیج کے علاوہ ویب سرور سے صرف وہی ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔
درج ذیل اسکرین شاٹ کے مطابق بائیں طرف موجود لنکس پر کلک کر کے ہر درخواست کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ویب پیج کی ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار کا نتیجہ

4- ویب پیج میں استعمال کی گئی کونسی فائل کتنی دیر میں ڈاؤن لوڈ ہو رہی ہے؟

درج ذیل اسکرین شاٹ میں ویب پیج میں استعمال کی گئی فائلز کا ڈاؤن لوڈنگ ٹائم دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ویب سرور کی طرف جب ویب پیج کے لیے کال بھیجی گئی تو اس کے 2 سیکنڈز بعد shade_line.png فائل نے ڈاؤن لوڈ ہونا شروع کیا، اور صرف اس فائل نے ڈاؤن لوڈ ہونے میں 352 ملی سیکنڈز لیے ہیں۔ ان تمام فائلز کا وقت جمع کیا جائے تو تقریباً‌ 21 سیکنڈز بنتے ہیں۔ لیکن چونکہ ویب سرور سے فائلز وصول کرنے کے لیے براؤزر بیک وقت ایک سے زیادہ کنکشنز قائم کرتا ہے اس لیے مکمل ویب پیج نے پہلی دفعہ ڈاؤن لوڈ ہونے میں مجموعی طور پر تقریباً‌ 6 سیکنڈز لیے ہیں۔
ان معلومات سے آپ یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی فائل ڈاؤن لوڈ ہونے میں بہت زیادہ وقت لے رہی ہے تو اس کے متبادل کوئی دوسری فائل ویب پیج میں شامل کی جا سکتی ہے۔ مثلاً‌ کسی بڑی تصویر کو کمپریس کر کے اس کا سائز چھوٹا کیا جا سکتا ہے، یا غیر ضروری تصاویر ویب پیج سے ہٹائی جا سکتی ہیں، وغیرہ۔
ویب پیج میں موجود تمام ایلی منٹس کی فہرست اور ان کا ڈاؤن لوڈنگ ٹائم
Categories: 

Sunday, August 28, 2016

آپ کی ویب سائیٹ مختلف براؤزرز پر کیسے نظر آتی ہے؟

Browsers کی صورت حال ویب ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے اب کافی بہتر ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ براؤزرز نے بھی ویب اسٹینڈرڈز کو کافی حد تک اپنا لیا ہے، اور ویب ڈیویلپرز بھی ان تکنیکوں سے واقف ہوگئے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے ویب سائیٹ مختلف براؤزرز پر ٹھیک طرح سے دکھائی جا سکے۔ ورنہ چند سال پہلےBrowser compatibility ایک بہت بڑا مسئلہ تھی۔ کسی ویب سائیٹ یا ویب ایپلی کیشن کا کوئی فیچر ایک براؤزر میں ٹھیک کام کرتا تو دوسرے براؤزر میں خراب ہوتا۔ دوسرے براؤزر کے لیے اس فیچر کو ٹھیک کیا جاتا تو تیسرے براؤزر میں وہ خراب ہو جاتا۔ مختلف براؤزرز کے درمیان غیر مطابقت کا یہ مسئلہ بسا اوقات ویب ڈیویلپرز کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بن جاتا۔ خیر اب بھی ویب ڈیویلپرز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی تیار کردہ ویب سائیٹ مختلف براؤزرز میں ٹیسٹ کریں۔ لیکن اب یوں ہوتا ہے کہ اگر ویب سائیٹ یا ویب ایپلی کیشن ایک براؤزر میں ٹھیک چل رہی ہے تو زیادہ توقع اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ باقی معروف براؤزرز پر بھی ٹھیک ہی چل رہی ہوگی۔ کہیں اکا دکا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت بہرحال پیش آتی رہتی ہے۔
انٹرنیٹ کے صارفین مختلف ویب براؤزرز استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے عام طور پر ویب ڈیویلپرز نے اپنے کمپیوٹر پر تمام بڑے براؤزرز کے جدید ورژنز انسٹال کیے ہوتے ہیں۔ وہ ان براؤزرز پر اپنی تیار کردہ ویب سائیٹ ٹیسٹ کرتے ہیں۔ لیکن پروفیشنل ویب ڈیویلپرز کے لیے ایسا کرنا کافی نہیں ہے۔ اس لیے کہ ممکن ہے صارف کوئی ایسا آپریٹنگ سسٹم یا براؤزر کا کوئی ایسا ورژن استعمال کر رہا ہو جو ویب ڈیویلپر کے استعمال میں نہیں ہے۔ چنانچہ ویب ڈیویلپرز کے لیے اس مسئلے کا ایک فوری حل موجود ہے۔ انٹرنیٹ پر کچھ ویب سائیٹس مختلف آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے براؤزرز کے اسکرین شاٹس مہیا کرنے کی سروس فراہم کرتی ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل تصور میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سرچ انجن میں browser shots لکھنے پر کچھ ایسی ویب سائیٹس کے لنکس سامنے آئے ہیں۔


سرچ انجن کی مدد سے براؤزر شاٹ آفر کرنے والی سروسز تلاش کریں


اس ٹٹوریل کے لیے سرچ انجن پر نظر آنے والی سب سے پہلی ویب سائیٹ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ آپ اس مقصد کے لیے دیگر سروسز بھی آزما سکتے ہیں۔ درج ذیل تصویر کے مطابق browsershots.org پر میں نے ایک ویب سائیٹ کا ایڈریس فراہم کیا ہے۔ اور پھر نیچے مختلف آپریٹنگ سسٹمز کے تحت موجود براؤزرز کی فہرست میں سے کروم، فائرفاکس اور ایکسپلورر کے حالیہ ورژن منتخب کیے ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ کم سے کم براؤزر منتخب کیے جائیں، اس لیے کہbrowsershots.org کے سرورز مصروف ہونے کی صورت میں یہ اسکرین شاٹس بننے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
اسکرین شاٹس کے لیے فہرست میں سے مختلف آپریٹنگ سسٹمز پر انسٹال براؤزر منتخب کریں

جیسے ہی میں نے Submit بٹن پر کلک کیا، مجھے درج ذیل پیغام دکھایا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کے اسکرین شاٹس تیار ہونے میں اتنا وقت لگ سکتا ہے۔ اس لیے یا تو اس ویب پیج کو بک مارک کر لیں اور بعد میں آکر نتیجہ دیکھیں، یا پھر اس ویب پیج کو تھوڑے وقفے کے بعد دوبارہ لوڈ کرتے رہیں۔
براؤزر اسکرین شاٹس تیار ہونے میں کتنا وقت لگے گا

درج ذیل تصویر بتا رہی ہے کہ 23 منٹ میں صرف 7 اسکرین شاٹس تیار ہوئے ہیں۔ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ دن کے مختلف اوقات میں یہ سروس استعمال کریں، اور پھر دیکھیں کہ کس وقت ان کے سرورز تیز کام کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں اس ویب سائیٹ سے بہت کم وقت میں کافی زیادہ اسکرین شاٹس حاصل کر چکا ہوں۔
  1. Download All پر کلک کر کے اب تک بنے ہوئے تمام اسکرین شاٹس ZIP فائل کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں۔
  2. یا پھر اس اسکرین شاٹ پر کلک کریں جس کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ اس میں ویب سائیٹ ٹھیک نظر نہیں آرہی۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ Linux آپریٹنگ سسٹم کی Ubuntu ڈسٹری بیوشن پر چلنے والے Firefox براؤزر کے 27 ورژن والے اسکرین شاٹ میں کچھ مسئلہ نظر آرہا ہے۔ کلک کرنے پر یہ اسکرین شاٹ بڑے سائز میں سامنے آجائے گا۔
تیار شدہ براؤزر اسکرین شاٹس
Tags: 

Friday, August 26, 2016

Inpage میں کالمز کیسے بنائیں؟

Inpage میں کالمز بنانا بہت آسان ہے، اس کے لیے صرف تھوڑے سے حساب کتاب کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عموماً‌ دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے سائز کی کتاب کا مواد جب پروف ریڈنگ کے لیے پرنٹ کیا جاتا ہے تو صفحہ کے اردگرد بہت سی خالی جگہ کے باعث کافی صفحات ضائع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کتاب کا مواد عارضی طور پر پورے صفحہ پر پھیلا دیا جائے تو پھر کتاب کی حقیقی شکل مصنف کے سامنے نہیں آتی۔ جبکہ صفحات کو درمیان سے کاٹ کر پرنٹر میں ڈالنا بھی ایک اضافی کام محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسی صورت حال میں ان پیج کی کالمز بنانے کی سہولت استعمال کی جا سکتی ہے، یعنی کاغذ کے ایک صفحہ پر کتاب کے دو صفحات پرنٹ کیے جا سکتے ہیں۔

پہلے Preferences مینیو کے تحت Document آپشن پر کلک کر کے ڈائیلاگ باکس کھولیں۔ اس میں General ڈراپ ڈاؤن مینیو میں سے پیمائش کے یونٹ کے طور پر Inches منتخب کریں۔ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ پرنٹ ہونے والے صفحہ کے اعتبار سے کالمز کا سائز بنانے میں آسانی ہو۔
ان پیج ڈاکومنٹ کے لیے پیمائش کا یونٹ انچ مقرر کریں

File مینیو میں سے New آپشن پر کلک کر کے نئی فائل بنانے والا ڈائیلاگ باکس کھولیں۔
ان پیج کی نئی فائل بنانے والا ڈائیلاگ باکس کھولیں

اگر کتاب کے قابل طباعت صفحہ کا سائز 4x7 انچ ہے، تو A4 سائز کے Landscape صفحہ پر کتاب کے دو صفحات پرنٹ کیے جا سکتے ہیں، یعنی:
  1. A4 سائز کے Landscape صفحہ کی چوڑائی 11.693 انچ ہوتی ہے، اس میں سے دو کالمز کے 8 انچ نکال دیں تو باقی 3.693 انچ بچتے ہیں۔ اس نمبر کو اگر آپ تین حصوں میں تقسیم کریں تو جواب 1.231 ا نچ آئے گا۔ یہ نمبر آپ صفحہ کے Right-margin، کالمز کے درمیان Gutter، اور صفحہ کے Left-margin کے طور پر استعمال کریں گے۔
  2. اسی طرح A4 سائز کے Landscape صفحہ کی اونچائی 8.268 انچ ہوتی ہے، اس میں سے عبارت کے 7 انچ نکال دیں تو باقی 1.268 بچتے ہیں۔ اس نمبر کو اگر آپ دو حصوں میں تقسیم کریں تو جواب 0.634 آئے گا۔ یہ نمبر آپ صفحہ کے Top-margin اور صفحہ کے Bottom-margin کے طور پر استعمال کریں گے۔
درج ذیل اسکرین شاٹ کے مطابق اس ڈائیلاگ باکس میں Columns کی تعداد 2 مقرر کریں۔ Orientation کے تحت Landscape آپشن منتخب کریں۔ اور پھر صفحہ کے دائیں، کالمز کے درمیان، اور صفحہ کے بائیں 1.231 انچ خالی جگہ متعین کریں۔ جبکہ صفحہ کے اوپر اور نیچے 0.634 انچ خالی جگہ متعین کریں۔ ان خالی جگہوں کو متعین کرنے کے بعد بچنے والی جگہیں در اصل 4x7 انچ کے 2 کالمز ہیں جن میں ڈاکومنٹ کی عبارت موجود ہوگی۔
نئی فائل بنانے والے ڈائیلاگ باکس میں کالمز کی تعداد اور ان کا سائز متعین کریں

یعنی صفحہ کے Right، کالمز کے درمیان Gutter، اور صفحہ کے Left پر خالی جگہیں متعین کرنے سے دو کالمز بن جائیں گے، اور ہر کالم کی چوڑائی 4 انچ ہوگی۔
کالمز کی پیمائش چوڑائی میں

اسی طرح صفحہ کے Top، اور صفحہ کے Bottom پر خالی جگہیں متعین کرنے سے کالمز کی اونچائی 7 انچ مقرر ہو جائے گی۔
کالمز کی پیمائش اونچائی میں
Categories: 

Thursday, August 25, 2016

Inpage میں عبارت اور انڈر لائن کے درمیان فاصلہ مقرر کریں

ان پیج پروگرام میں لکھی گئی ایسی عبارتیں وقتاً‌ فوقتاً‌ دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں جن میں کچھ الفاظ کے نیچے انڈر لائن کا ایفیکٹ استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انڈر لائن نے الفاظ کے نقطوں کو چھپایا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پیج میں عبارت اور انڈر لائن کے درمیان ڈیفالٹ فاصلہ کم ہے، جس کے نتیجے میں یہ انڈر لائن بعض اوقات عبارت کے نچلے حصے کو کاٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ان پیج میں حسب ضرورت یہ فاصلہ بڑھانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ عبارت اور انڈر لائن کے درمیان فاصلہ صرف ایک فائل کے لیے بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، اور اس فاصلے کو ان پیج کی ڈیفالٹ سیٹنگ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک نمونے کی عبارت کے نیچے انڈر لائن لگائی گئی ہے۔
انپیج میں نمونے کی عبارت جس کے نیچے انڈر لائن استعمال کی گئی ہے

Edit مینیو کھولیں، پھر اس میں Preferences مینیو کے تحت موجود Typographic آپشن پر کلک کر کے ڈائیلاگ باکس کھولیں۔
انپیج کے ایڈٹ مینیو میں سے پریفرینسز مینیو کھولیں، پھر اس میں سے ٹائیپوگرافک ڈائیلاگ باکس کھولیں

اس ڈائیلاگ باکس میں Underline والے حصے میں موجود Shift آپشن کی ویلیو بڑھا دیں۔ جبکہ Width آپشن کی مدد سے انڈر لائن کی موٹائی مقرر کی جا سکتی ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آئندہ بننے والی ان پیج کی فائلوں میں انڈر لائن کے لیے یہی فاصلہ مقرر ہو، تو پھر Save As Default بٹن پر کلک کریں۔ ورنہ صرف OK بٹن پر کلک کر دیں۔
انپیج کے ٹائیپوگرافک ڈائیلاگ باکس میں عبارت اور انڈر لائن کے درمیان فاصلہ مقرر کریں

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈر لائن اب عبارت کے نقطوں کے اوپر نہیں ہے بلکہ تھوڑا سا نیچے ہے۔
عبارت اور انڈر لائن کے درمیان فاصلہ بڑھانے کے بعد
Categories: 

Monday, August 22, 2016

Inpage میں شادی کا دعوت نامہ تیار کریں

ان پیج نہ صرف ورڈ پراسیسنگ کا سافٹ ویئر ہے بلکہ یہ ایک لے آؤٹ ڈیزائن کا سافٹ ویئر بھی ہے۔ ان پیج استعمال کرتے ہوئے مختلف نوعیتوں کے لے آؤٹ ڈیزائنز با آسانی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس ٹٹوریل میں شادی کا ایک دعوت نامہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے جو ٹولز استعمال کیے گئے ہیں ان میں Text Box ٹول نمایاں ہے جس کی مدد سے پہلے صفحہ پر حسب ضرورت مختلف ڈبے بنا کر ایک لے آؤٹ تیار کیا گیا ہے۔ اور پھر ان ڈبوں میں عنوانات اور دیگر عبارتیں لکھ کر شادی کارڈ تیار کیا گیا ہے۔ البتہ شادی کارڈ میں لوگوں اور جگہ کے فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں۔

  1. ٹول بار سے Text Box والا ٹول منتخب کر کے صفحہ پر حسب ضرورت ڈبے بنائیں، تاکہ انہیں مختلف عنوانات اور عبارتوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
  2. کوئی بھی ڈبہ بنانے کے بعد اگر آپ اس کا سائز تبدیل کرنا چاہیں تو پہلے Select ٹول منتخب کر کے مطلوبہ ڈبے پر کلک کریں، پھر سلیکشن کے نشانات کو ماؤس کے ساتھ پکڑ کر ڈبے کا سائز تبدیل کر لیں۔
ٹیکسٹ باکس کی مدد سے شادی کارڈ کی عبارتوں کے لیے ڈبے بنائیں

ٹول بار سے Hand ٹول منتخب کریں اور پھر ہر ڈبے میں مطلوبہ عبارت لکھیں۔ جیسا کہ درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اوپر پراپرٹی بار پر موجود فونٹ اور فونٹ سائز وغیرہ آپشنز کو استعمال کرتے ہوئے ڈبوں میں مختلف عنوانات اور عبارتیں لکھی گئی ہیں۔
ڈبوں میں مطلوبہ فونٹ اور فونٹ سائز استعمال کرتے ہوئے عبارتیں لکھیں

اگر کسی ڈبے کی عبارت کو آپ ریورس دکھانا چاہیں، یعنی سیاہ بیک گراؤنڈ پر سفید لکھائی دکھانا چاہیں، تو اس کے لیے پہلے Select ٹول منتخب کر کے ڈبے پر کلک کریں۔ پھر اوپر پراپرٹی بار پر موجود بیک گراؤنڈ کے رنگ والے خانے سے سیاہ رنگ منتخب کر لیں۔
کسی خاص ڈبے کی بیک گراؤنڈ کا رنگ مقرر کریں

اب Hand ٹول منتخب کر کے ڈبے میں موجود لکھائی کو سلیکٹ کریں، پھر پراپرٹی بار پر موجود لکھائی کے رنگ والے ڈراپ ڈاؤن مینیو میں سے سفید رنگ منتخب کرلیں۔ ایسا کرنے سے سیاہ بیک گراؤنڈ پر سفید لکھائی نظر آئے گی۔
گہرے رنگ کی بیک گراؤنڈ والے ڈبے کی لکھائی کے لیے سفید رنگ مقرر کریں

اب ٹول بار سے Rectangle ٹول منتخب کر کے ڈبوں کے گرد گول کناروں والے باکسز بنائیں، تاکہ یہ عبارتیں اچھی نظر آئیں۔ پراپرٹی بار پر موجود آپشن کی مدد سے کناروں کی گولائی کی مقدار بتائی کی جا سکتی ہے۔
لکھائی کے ڈبوں کے گرد گول کناروں والے باکسز بنائیں

آخر میں ٹول بار سے Line ٹول منتخب کر کے حسب ضرورت مختلف جگہوں پر عبارتوں کی خوبصورتی کے لیے لائنیں لگائیں۔
عبارتوں کی خوبصورتی کے لیے لائن ٹول کی مدد سے لائنیں لگائیں

جب پرنٹنگ پریس سے یہ شادی کارڈ چھپے گا تو امید ہے کہ اچھا نظر آئے گا۔
شادی کارڈ تیار ہے
Tags: 

Saturday, August 20, 2016

Inpage میں سطروں کے درمیان Auto فاصلہ کی مقدار متعین کریں

ایک تجربہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ان پیج میں سطروں کے درمیان ہمیشہ Auto فاصلہ مقرر کیا جائے تو بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ سطروں کے فاصلہ کے لیے مقدار متعین کر دیں گے تو یہ عام عبارت کے اعتبار سے تو ٹھیک ہوگا، لیکن عنوانات کے لیے یہ فاصلہ کم ہوگا۔ یوں آپ کو عنوانات کی سطروں کے لیے الگ فاصلہ مقرر کرنا پڑے گا اور عبارتوں کی سطروں کے لیے الگ۔ جبکہ Auto فاصلہ مقرر کرنے سے عنوانات اور عبارتوں کی سطروں کا فاصلہ ان کے فونٹ سائز کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس Auto فاصلہ کو کم یا زیادہ کرنے کی سہولت ان پیج میں دی گئی ہے۔ آئیں اس آپشن کے استعمال کا طریقہ دیکھتے ہیں:

درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب پراپرٹی بار کی مدد سے سطروں کے درمیان فاصلہ مقرر کیا گیا ہے تو عنوان کا فاصلہ اوپر والی سطر کے ساتھ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ان پیج میں پراپرٹی بار کی مدد سے سطروں کے درمیان فاصلہ مقرر کیا گیا ہے

ان پیج کے Edit مینیو میں Preferences آپشن موجود ہے، اس آپشن کے تحت Typographic آپشن پر کلک کر کے ڈائیلاگ باکس کھولیں۔ اور پھر اس ڈائیلاگ باکس میں درج ذیل اسکرین شاٹ کی مدد سے Auto Line Spacing کے لیے مناسب ویلیو مہیا کریں۔ اور پھر یہ ڈائیلاگ باکس بند کر دیں۔
ٹائپو گرافک ڈائیلاگ باکس کھول کر آٹو فاصلہ کی مقدار متعین کریں

اب Ctrl+A کی مدد سے اس فائل کی تمام عبارت سلیکٹ کریں، اور پھر پراپرٹی بار پر سطروں کے درمیان فاصلہ Auto مقرر کریں۔
مکمل عبارت سلیکٹ کر کے پراپرٹی بار پر آٹو فاصلہ مقرر کریں

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اب عنوان اور اس سے اوپر والی سطر کے درمیان مناسب فاصلہ ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اب عنوان والی سطر کا فاصلہ اس کے فونٹ سائز کے اعتبار سے ہے۔
آٹو فاصلہ کی مقدار متعین کرنے کے بعد سطروں کے درمیان فاصلہ
Categories: 

Friday, August 19, 2016

Inpage میں قرآنی آیات پر اعراب لگائیں

Inpage کی بہت زیادہ مقبولیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ اردو پبلشنگ کے لیے اس جیسا کوئی دوسرا سافٹ ویئر ابھی تک نہیں بن سکا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے بنانے والوں نے عربی اور اردو طباعت کے بہت سے پیچیدہ مسائل حل کیے ہیں۔ ان پیج میں اعراب لگانے کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ اعراب کو حسب ضرورت مختلف انگلش بٹنوں پر سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پیج میں تطویل کا ایک نشان مہیا کیا گیا ہے جس کی مدد سے کسی بھی نسخ رسم الخط کے حروف کو لمبا کیا جا سکتا ہے۔ حروف کی یہ لمبائی اعراب واضح کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ آئیں ان پیج میں یہ سہولیات استعمال کرتے ہوئے قرآنی آیات پر اعراب لگانے کا طریقہ دیکھتے ہیں۔

عام مشاہدہ یہ ہے کہ پہلے قرآنی آیات لکھ کر ان کی پروف ریڈنگ اور فارمیٹنگ کر لی جائے، اور پھر اس کے بعد اعراب لگائے جائیں تو آسانی رہتی ہے۔ چنانچہ درج ذیل تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آیات لکھ کر ان کی فارمیٹنگ کر لی گئی ہے۔
پہلے قرآنی آیات لکھ کر ان کی فارمیٹنگ کر لیں

درج ذیل اسکرین شاٹ میں جو کی بورڈ لے آؤٹ آپ دیکھ رہے ہیں، اس پر بٹنوں کی ترتیب وہ ہے جس کے مطابق میں نے کئی سال پہلے ٹائپنگ سیکھی تھی۔ اس لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ کے کی بورڈ لے آؤٹ پر اردو حروف کی ترتیب بھی یہی ہو۔ میں نے درج ذیل تصویر کے مطابق اپنے کی بورڈ کے بٹنوں پر اعراب کی سیٹنگ کی ہوئی ہے۔ اس میں J (جے) بٹن پر ڈیش کی صورت جو نشان نظر آرہا ہے، یہ بہت اہم ہے۔ تطویل کا یہ نشان استعمال کرتے ہوئے ان پیج کے کسی بھی نسخ فونٹ کے حروف کو لمبا کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: کی بورڈ کے انگلش بٹنوں پر اردو حروف سیٹ کرنے کے لیے یہ ٹٹوریل دیکھیں: Inpage میں کی بورڈ کے بٹنوں کی ترتیب تبدیل کریں
کی بورڈ کے بٹنوں پر اعراب کی سیٹنگ کریں

اعراب لگانے کے لیے پہلے میں کرسر عبارت کے شروع پر لاتا ہوں۔ پھر دائیں ہاتھ کے ساتھ Left Arrow بٹن دباتا جاتا ہوں اور بائیں ہاتھ کی مدد سے Shift+button کے ساتھ اعراب لگاتا جاتا ہوں۔ جس حرف پر اعرب لگانا ہو، کرسر اس کے بعد موجود ہونا چاہیے۔ لیکن اگر شد والے حرف کے نیچے زیر لانی ہو تو کرسر شد سے پہلے موجود ہونا چاہیے۔ اور اگر شد والے حرف کے اوپر زبر لانی ہو تو کرسر شد کے بعد موجود ہونا چاہیے۔
بہرحال یہ ترتیب میرے کی بورڈ لے آؤٹ کی ہے، آپ اپنے کی بورڈ لے آؤٹ پر اپنی سہولت کے مطابق اعراب کی سیٹنگ کر سکتے ہیں۔
ایک مرتبہ بائیں تیر کا بٹن دبا کر اس حرف کے آگے پہنچ جائیں جس پر اعرب لگانا ہے، پھر اعرب لگائیں

درج ذیل تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ:
  1. کچھ اعراب حرفوں کے بالکل ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ واضح طور پر پڑھے نہیں جا رہے۔ ان حروف کی چوڑائی زیادہ کرنے کے لیے تطویل کا نشان استعمال کیا جا سکتا ہے جو آپ نے اوپر کی بورڈ کے J بٹن پر دیکھا ہے۔
  2. کچھ لفظوں کے نیچے اور کچھ لفظوں کے اوپر اعراب واضح نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عبارت کی سطروں کے درمیان مخصوص فاصلہ مقرر کیا جاتا ہے تو اسکرین پر یہ اعراب اس طرح سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن پرنٹ ہونے پر یہ اعراب ٹھیک نظر آتے ہیں۔ اسکرین پر عارضی طور پر تمام اعراب ٹھیک دیکھنے کے لیے لائنوں کے درمیان فاصلہ بڑھالیں۔
قرآنی آیات پر اعراب، لفظوں کے حروف کے درمیان فاصلے کے بغیر

درج ذیل تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لفظوں کے حروف کے درمیان تطویل کا نشان استعمال کرنے پر اعراب واضح نظر آرہے ہیں۔ اس نشان کی مدد سے کسی بھی حرف کو جتنا چاہے لمبا کیا جا سکتا ہے۔
قرآنی آیات پر اعراب، لفظوں کے حروف کے درمیان فاصلے کے ساتھ

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان پیج کی فائل PDF میں تبدیل کی گئی ہے، جس میں عربی عبارت پر اعراب بالکل واضح نظر آرہے ہیں، اسی طرح یہ اعراب پرنٹنگ میں واضح نظر آئیں گے۔
پی ڈی ایف میں اعراب ٹھیک نظر آرہے ہیں
Categories: 

Wednesday, August 17, 2016

Inpage میں لکھا گیا مواد Image میں تبدیل کریں

بعض دفعہ آپ ان پیج میں کوئی دعوت نامہ یا اشتہار وغیرہ ڈیزائن کرتے ہیں، اور پھر چاہتے ہیں کہ اسے بذریعہ انٹرنیٹ دوسروں کے ساتھ شیئر کر دیا جائے۔ مثلاً‌ ای میل کے ذریعے بھیج دیا جائے، کسی ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے، یا پھر سوشل میڈیا پر ڈال دیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان پیج فائل شیئر کرنے کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہے، اسلیے کہ سب کے پاس ان پیج سافٹ ویئر نہیں ہوتا۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ ان پیج کی عبارت کو یونی کوڈ میں تبدیل کر دیا جائے۔ لیکن ایسا کرنے سے یہ ہوگا کہ ان پیج میں جو آپ نے سیٹنگ اور ڈیزائننگ کی ہے، وہ سب غائب ہو جائے گی۔ دوسرا حل یہ ہے کہ ان پیج میں مہیا کیا گیا وہ آپشن استعمال کر لیا جائے جس کی مدد سے ان پیج کے مواد کو ایکسپورٹ کر کے اس کی Image تیار کی جا سکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ امیج فائل کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور سمارٹ فون سب پر دیکھی جا سکتی ہے۔
ان پیج کا جو ورژن میرے پاس ہے، اس میں ایکسپورٹ کے لیے دو طرح کے فارمیٹس کی سہولت موجود ہے:
  1. ایک GIF فارمیٹ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ براہ راست ان پیج سے GIF امیجز فوری تیار کر سکتے ہیں۔ لیکن ان پیج کی Anti-aliasing تکنیک اتنی بہتر نہیں ہے۔ یعنی اس سے ایکسپورٹ ہونے والی GIF امیج میں اردو الفاظ کی دیواریں نوکیلی اور خاردار نظر آتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس فوٹو شاپ یا اس طرز کا کوئی سافٹ ویئر نہیں ہے، تو پھر GIF فارمیٹ میں ایکسپورٹ کر کے آپ کام چلا سکتے ہیں۔
  2. دوسرا EPS فارمیٹ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس فارمیٹ کی فائل کو ہم فوٹو شاپ میں کھول کر وہاں سے GIF فائل کی صورت میں ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔ فوٹو شاپ سے ایکسپورٹ ہونے والی GIF امیج صحیح معنوں میں Anti-aliased ہوتی ہے، یعنی اس میں الفاظ کی دیواریں نرم اور گول نظر آتی ہیں۔
 
درج ذیل نمونے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ فوٹو شاپ کے ذریعے EPS کی مدد سے بننے والی GIF امیج میں عبارت کا معیار بہتر ہے۔
 
جف فائل اور ای پی ایس فائل کا موازنہ

اس ٹٹوریل میں ہم ان پیج کا مواد EPS فارمیٹ میں ایکسپورٹ کریں گے، اور پھر اس فائل کو فوٹو شاپ میں کھول کر وہاں سے GIF فائل میں ایکسپورٹ کریں گے۔ ان پیج سافٹ ویئر کے ساتھ نمونے کی کچھ فائلز آتی ہیں، انہی میں سے ایک فائل اس مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ آئیں یہ عمل مرحلہ وار دیکھتے ہیں:

ان پیج کے File مینیو میں سے Export Page آپشن پر کلک کریں۔
ان پیج کے فائل مینیو سے ایکسپورٹ پیج آپشن منتخب کریں

  1. درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایکسپورٹ ڈائیلاگ باکس میں فائل کی ڈیفالٹ ایکسٹنشن gif ہے۔ اسے ہم eps میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
  2. ایکسپورٹ ہونے والی فائل کی جگہ منتخب کرنے کے لیے Browse بٹن پر کلک کریں۔
  3. نئے کھلنے والے ڈائیلاگ باکس میں ایکسپورٹ ہونے والی فائل کا نام مہیا کریں۔
  4. اور Type ڈراپ ڈاؤن مینیو میں سے PostScript Files والا آپشن منتخب کریں۔ اس کے بعد موجودہ ڈائیلاگ باکس میں Save اور اس سے پچھلے ڈائیلاگ باکس میں OK بٹن پر کلک کر دیں۔ اس سے منتخب کیے گئے فولڈر میں ان پیج کا مواد EPS فائل کی صورت میں ایکسپورٹ ہو جائے گا۔
ایکسپورٹ فائل کا نام مہیا کریں، اور اس فائل کی ٹائپ ای پی ایس مقرر کریں

ان پیج سے ایکسپورٹ کی گئی فائل کو Photoshop میں کھولیں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مطلوبہ فائل پر رائٹ کلک کر کے مینیو کھولیں۔ اور پھر اس میں موجودOpen with آپشن کے تحت Photoshop آپشن پر کلک کر دیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے فوٹو شاپ کھول لیں، اور پھر ماؤس کے ساتھ یہ فائل فوٹو شاپ میں ڈریگ کر لیں۔
ان پیج سے ایکسپورٹ کی گئی ای پی ایس فائل فوٹو شاپ میں کھولیں

فوٹو شاپ کھلنے پر جو ڈائیلاگ باکس سامنے آتا ہے، اس میں کھلنے والی EPS فائل کے متعلق مختلف سیٹنگز موجود ہوتی ہیں۔ درج ذیل اسکرین شاٹ کے مطابق حسب ضرورت ریزولوشن اور دیگر آپشنز کی ویلیوز متعین کریں۔
فوٹو شاپ میں ای پی ایس فائل کی ریزولوشن اور موڈ منتخب کریں

فوٹو شاپ میں یہ فائل کھلنے پر سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنی ضرورت کے مطابق اس امیج کا سائز مقرر کر لیں۔ اس مقصد کے لیے Image مینیو میں موجود Image Size آپشن پر کلک کریں، جس سے ایک ڈائیلاگ باکس کھل جائے گا۔ درج ذیل اسکرین شاٹ کے مطابق امیج کا سائز مقرر کر کے OK بٹن پر کلک کر دیں۔
فوٹو شاپ میں امیج کا سائز حسب ضرورت تبدیل کریں

  1. فوٹو شاپ میں جب سائز تبدیل کیا جاتا ہے تو عموماً‌ Zoom لیول بھی کم ہو جاتا ہے۔ مواد کو اصل سائز میں دیکھنے کے لیے بائیں طرف ٹول بار میں سے Zoom ٹول منتخب کریں اور پھر پراپرٹی بار پر Actual Pixels آپشن پر کلک کریں۔
  2. اب ہم اس فائل کو GIF فارمیٹ میں ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے File مینیو میں موجود Save for Web آپشن پر کلک کریں۔
  3. فوٹو شاپ کے فائل مینیو میں سے ویب کے لیے محفوظ کرنے والا آپشن منتخب کریں

    سامنے آنے والے ڈائیلاگ باکس میں ایکسپورٹ کے متعلق مختلف آپشنز موجود ہیں۔ درج ذیل اسکرین شاٹ کے مطابق یہ آپشنز مقرر کریں۔ اگر ان پیج کا مواد صرف لکھائی پر مشتمل ہے تو ڈراپ ڈاؤن مینیو میں سے Restrictive والا آپشن منتخب کر لیں۔ اور اگر مواد میں تصاویر وغیرہ بھی موجود ہیں تو پھر Adaptive والا آپشن منتخب کرلیں۔ اور پھر Save بٹن پر کلک کر دیں جس سے یہ فائل GIF فارمیٹ میں ایکسپورٹ ہو جائے گی۔
    ڈائیلاگ باکس میں ویب کے لیے ایکسپورٹ کی جانے والی فائل کے لیے آپشنز منتخب کریں

    درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لکھائی بہت صاف ہے اور اس میں الفاظ کی دیواریں Smooth نظر آرہی ہیں۔
    فوٹو شاپ سے ایکسپورٹ ہونے والی جف فائل ونڈوز کے فوٹو ویوئر کی مدد سے دیکھیں
Categories: